Print Friendly, PDF & Email

🔹 آسان قرآن کوئز 21–2020🔹

🌹 حضرت محمد ص در قرآن🌹
«حبیب خدا ص کلام خدا میں »
🌺 پہلا حصہ
1. رسول اکرم ص کے معجزات
2. حضرت محمد ص کے خاتم النبیین ہونے پر قرآن مجید سے دلائل
3. قرآن کریم میں پیغمبر اسلام ص کے اسمائے گرامی
4. پیغمبرِ اکرم ص کے لئے مسلمانوں کی ذمہ داریاں


🔷 1. رسول اکرم ص کے معجزات🔷

🔸 قرآن لافانی معجزہ:
پیغمبر اسلام ص نے دعوت دین اسلام کو گوناگوں معجزات کے ساتھ پیش کیا۔ لیکن ان معجزات میں سے ایک معجزہ پر آنحضرت ص نے بڑی تاکید فرمائی ہے اور یہ لافانی معجزہ قرآن مجید ہے۔
پیغمبر اسلام ص نے اپنی نبوت کا اعلان آسمانی کتاب کو پیش کرتے ہوئے فرمایا اور دنیا والوں کو اس کے مقابلے کی دعوت دی۔
قرآن کے واضح اور فیصلے کو چیلنج کے باوجود بھی اس پر پیغمبر اسلام ص کے دوران کوئی شخص اس کی نظیر نہ لا سکا۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج بھی قرآن مجید اپنے چیلنج کا اعلان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
سورۃ ‎الإسراء:
🌼 قُلۡ لَّئِنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَ الۡجِنُّ عَلٰۤی اَنۡ یَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا یَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِہٖ وَ لَوۡ کَانَ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ ظَہِیۡرًا۔
〰️کہدیجئے اگر انسان اور جن سب مل کر اس قرآن کی مثل لانے کی کوشش کریں تو وہ اس کی مثل لا نہیں سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔

🔸 قرآن کے علاوہ دیگر معجزات:
یہاں پر اس امر کی طرف توجہ مبذول کروانا ضروری ہے کہ عقل کی کسوٹی پر بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیغمبر اکرم ص کو اصولی طور پر قرآن کے علاوہ دیگر معجزات کا بھی حامل ہونا چاہیے۔ پیغمبر اسلام ص حضرت موسی ع کے نو اور حضرت عیسی ع کے پانچ معجزوں کا ذکر کرتے ہیں ۔
کیا یہ بات قابل قبول ہے کہ پیغمبر اسلام ص خود کو دیگر انبیاء سے برتر اور خاتم انبیاء جانتے ہوئے دیگر پیغمبروں کے کتنے معجزے بیان کریں آپ کی نبوت صرف ایک معجزہ کی حامل ہو؟
اور کیا لوگ گزشتہ انبیاء ع کے بارے میں گوناگون معجزہ سننے کے باوجود پیغمبر آخر الزماں ص سے مختلف معجزوں کی آرزو رکھتے اور آپ ص کو صرف ایک ہی معجزہ دیکھانے پر اکتفا کر لیتے؟
جب کہ قرآن مجید نے پیغمبر اسلام ص کے متعدد معجزات بیان کئے ہیں:
🔰 ا) شق القمر:
جس وقت مشرکین نے پیغمبر اسلام ص پر ایمان لانے کے لیے یہ شرط رکھی کہ آپ ص ایک اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے کر دیں تو آپ ص نے حکم خدا سے ایسا کر کے دکھا دیا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
سورۃ ‎القمر
🔅 اقتربت السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ﴿۱﴾
〰️ قیامت قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔
سورۃ ‎القمر:
🔅 وَ اِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴿۲﴾
〰️〰️اور (کفار) اگر کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ تو وہی ہمیشہ کا جادو ہے۔
🔰 ب) معراج:
پیغمبر اسلام ص ایک ہی رات میں مکہ میں مسجد الحرام سے فلسطین مسجد الاقصی تک اور وہاں سے عالم بالا کی طرف تشریف لے گئے۔ ایسا عظیم سفر ایک مختصر وقت کے اندر پیغمبراسلام ص کے دیگر معجزات میں سے ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے۔ قدرت الہی اس سے بہتر ہے کہ طبعی عوامل و اسباب اس کے رسول کو عالم اسلام کی طرف لے جانے میں معنی اور رکاوٹ بنے۔(اسرا:1)
🔰 ج) مباہلہ:
پیغمبر اسلام ص نے اپنی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اہل کتاب کے ایک گروہ کو مباہلہ کی دعوت دی اور فرمایا “آؤ تاکہ اپنے آپ کو اپنے فرزندوں اور اپنی عورتوں کو مباہلہ لے کے لئے سامنے لائیں”
یہ مسلم ہے کہ مباہلہ دو طرف میں سے ایک کی نابودی و ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام ص نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا لیکن اہل کتاب کے گروہوں نے جب پیغمبر اسلام ص مصمم ارادے کے علاوہ یہ دیکھا کہ پیغمبر ص مباہلے کے لئے اپنے خاندان کے عزیز ترین افراد کو ساتھ لے آئے ہیں تو پسپائی قبول کر کے پیچھے ہٹ گئے اور پیغمبر اسلام ص کے شرائط ماننے پر تیار ہو گئے۔
🔅 سورہ آل عمران آیت61
🔰 د)علم غیب کی خبر :
پیغمبر اکرم ص بھی وحی الہی کے ذریعے غیب کی خبر دیتے تھے جن میں سے ایک رومیوں کی ایرانیوں پر فتح یابی(سورہ روم:2) کی پیشن گوئی اور دوسری فتح مکہ(سورہ فتح:27) کی پیشنگوئی ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔷 2. حضرت محمد ص کے خاتم النبیین ہونے پر قرآن مجید سے دلائل 🔷

قرآن میں متعدد آیات ہیں جو مستقیم یا غیر مستقیم طور پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرم ص ، آخری نبی اور اسلام آخری دین اور شریعت ہے۔
🔰 دلیل اول: ختم نبوت میں پہلی آیہ مبارکہ
پہلی دلیل خاتمیت پیغمبر اسلام پر قران کی بیان کردہ واضح آیت ہے۔ اگر اور کوئی دلیل نہ ہوتی اس امر پر دلالت کرنے کے لیے ،یہ آیت کافی ہے اثبات خاتمیت پیغمبر اسلام ص پر۔
خداوند متعال نے سورہ احزاب آیت نمبر 40 میں واضح اور روشن طور پر حضرت محمد مصطفی ص کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔
🌼 ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّينَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا
🔅ترجمہ: حضرت محمد ص تمہارے مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور خدا ہر چیز سے اچھی طرح آگاہ ہے۔

🔰 دوسری دلیل: پیغمبرص کی عالمگیر دعوت
ایک اور ادلہ خاتم الانبیاء میں یہ ہے رسالت پیغمبر اکرم ص رہتی دنیا تک تمام عالم کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ تمام جہان کے لیے رسالت پیغمبر ص ، دین کی ضروریات میں سے ہے اور جسے ہمیں قرآن مجید میں عبارتیں ملتی ہیں:
یاایھا الناس اور عالمین۔
اس سے واضح ہوتا ہے قرآن کے مخاطبین عمومیت ہیں اور یہ کامل طور پر دلالت کرتا ہے پیغمبر اسلام ص کی رسالت کے عالمگیر ہونے پر۔

🔅 تعبیر عالمین
🌼 تَبارَكَ الَّذي نَزَّلَ الفُرقانَ عَلىٰ عَبدِهِ لِيَكونَ لِلعالَمينَ نَذيرًا
〰️ بزرگ ہے وہ ذات جس نے فرقان کو اپنے بندوں پر نازل فرمایا تاکہ وہ عالمین کو ڈرائے۔

🔅 تعبیر الناس:
🌼 وَما أَرسَلناكَ إِلّا كافَّةً لِلنّاسِ بَشيرًا وَنَذيرًا وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ
〰️ اے نبی ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یعنی تم صرف اسی شہر یا اسی ملک کی اسی زمانے کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے اور ہمیشہ کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے ہیں مگر یہ آپ کے ہم عصر اہل وطن آپ کی قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور ان کو احساس نہیں ہے کہ کس عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔ یہ بات کہ نبی ص صرف اپنے ملک کیا ، اپنے زمانے کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں۔
🌼 قُل يا أَيُّهَا النّاسُ إِنّي رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم جَميعًا
〰️ اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔
∆ امام حسن مجتبیٰ ع کی ایک حدیث میں ہے: کچھ یہودی حضرت رسول اللہ ص کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی:
اے محمد! کیا تم ہی وہ شخص ہو جس نے یہ خیال کیا ہے کہ وہ اللہ کا فرستادہ ہے اور حضرت موسی ع کی طرح تم پر بھی وحی نازل ہوتی ہے؟
حضرت رسول اللّٰہ ص نے تھوڑا سکوت کیا اس کے بعد فرمایا
∆ “ہاں میں ہوں سید اولاد آدم، لیکن اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی خاتم الانبیاء امام اتقیا اور رسول پروردگار عالم ہوں”۔
انہوں نے پوچھا:
تم کس کی طرف بھیجے گئے ہو؟ عرب کی طرف یا عجم کی طرف یا ہماری طرف؟
ان کے اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے ہے۔
یہ آیت بھی دیگر بہت سی قرآنی آیت کی طرح اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ص کی رسالت عالمی اور جہانی ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


🔷 3. قرآن کریم میں پیغمبر اسلام ص کے اسمائے گرامی🔷

🔰 عہدین (توریت عظیم اور انجیل مقدس )میں پیغمبر اکرم ص کی علامات
خداوندعالم نے پیغمبر اکرم ص کی دعوت کو صحیح طور پر واضح کرنے کے لیے تورات اور انجیل میں حضرت ص کی صفات و خصوصیات کو بیان فرمایا ، آپکی نبوت و رسالت کو وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس طرح اہل کتاب کے لئے انکار کی تمام راہوں کو مسدود فرما دیا۔
🌼 اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ

〰️۔(یہ رحمت ان مومنین کے شامل حال ہو گی)جو لوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی کہلاتے ہیں جن کا ذکر وہ اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور پاکیزہ چیزیں ان کے لیے حلال اور ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان پر لدے ہوئے بوجھ اور (گلے کے) طوق اتارتے ہیں، پس جو ان پر ایمان لاتے ہیں ان کی حمایت اور ان کی مدد اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں ۔ (سوره اعراف 157)

🔰 انجیل مقدس میں پیغمبر اسلام ص کے اسم گرامی کا بیان:
قرآن مجید واضح طور پر بیان فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ع نے اپنے بعد “احمد” نامی پیغمبر کی بعثت کی خبر دیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
🌼 وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ
〰️ اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا ، اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے کی (کتاب) توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نام احمد ہو گا، پس جب وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تو کہنے لگے: یہ تو کھلا جادو ہے۔
(سوره صف 06)

🔰 قرآن میں پیغمبر اسلام ص کے اسمائے گرامی
قرآن مجید پیغمبر اکرم ص کو عام طور پر “النبی” و”الرسول” کے القاب کے ساتھ یاد کرتا ہے ۔ تاہم کبھی کبھی آپ کے لیے ” عبدہ”(بندہ خدا) کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرماتا ہے:
🌼 فَاَوۡحٰۤی اِلٰی عَبۡدِہٖ مَاۤ اَوۡحٰی
〰️ پھر اللہ نے اپنے بندے پر جو وحی بھیجنا تھی وہ وحی بھیجی۔
اس کے علاوہ سورہ ہاے مبارکہ آل عمران ، احزاب ، محمد ص اور فتح میں اللہ تعالی نےا حضرت ص کو محمد ص کے مبارک نام سے خطاب فرمایا۔
🌼 مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا
〰️ محمد ص تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ہاں وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیّین ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔
سورۃ صف میں احمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسے کہ پہلے بیان کر چکے ہیں۔
🌺 تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عبدالمطب ع کے گھر نئے پیدا ہونے والے بچہ نے اپنی ولادت کے ساتویں روز “محمد” نام پایا جبکہ والدہ گرامی نے انکا نام “احمد” رکھا۔ پیغمبر اکرم ص کے عمل بزرگوار حضرت ابو طالب ع نے اپنے اشعار میں اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت عبد المطلب نے الہام غیب سے آنحضرت کا اسم مبارک “محمد ص” رکھا۔ حضرت ابو طالب کے شعر کا ترجمہ ہے۔۔۔۔۔
🌹””خداوند عالم نے حضرت عبداللہ کے فرزند کی عزت و تکریم کی خاطر اس کا نام اپنے نام سے نکالا۔ صاحب عرش کا نام محمود ہے اور اس کا نام محمد ص””🌹

🌼 اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔷 4. پیغمبرِ اکرم ص کے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داریاں:🔷

جن مسائل کو قرآن مجید میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے وہ اسلامی معاشرے کے وہ فرائض ہیں جن کی نسبت پیغمبر اکرم ص سے ہے۔

🔰 الف) پیغمبر اکرم ص کی اطاعت:

قرآن مجید حدود رسالت میں رسول اکرم ص کے حق اطاعت کو بیان فرماتا ہے۔ ۔

🌷 وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہ
〰️ اللہ نے جو بھی رسول بھیجے، اس لیے بھیجے کہ ان کی اطاعت کی جائے۔

∆ اطاعت سے مراد عملی اطاعت ہے، نہ کہ صرف زبان سے یعنی رسول ص کے پیغام کو کان لگا کر غور سے سنا جائے اور اس کے اقوال مثلاً نماز بجا لانے اور ادائے زکوة پر عمل کیا جائے اس قسم کے فرائض کا بجا لانا درحقیقت حکم خدا کی اطاعت ہے نہ کہ اطاعت پیغمبر اگرچہ بظاہر یہ اطاعت پیغمبر بھی شمار ہوگئی قرآن مجید اس قسم کی اطاعت کی ماہیت کو ایک آیت مبارک میں وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

🌷 مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ
〰️ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

یہی وجہ ہے کہ بعض مواقع پر جہاں قرآن مجید رسول ص کی رسالت کے عنوان سے ان کی اطاعت کا ذکر فرماتا ہے وہاں حقیقت اطاعت رسول مراد نہیں بلکہ اطاعت خداوندمتعال مراد ہے اور اسے ایک پہلو سے ہی اطاعت رسول کی نسبت دی جاتی ہے اسی لیے قرآن مجید شخصیت رسول کی ‘مقام رسالت’ کے اعتبار سے اس طرح تصویر کشی فرماتا ہے:

🌼 فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ
پس آپ نصیحت کرتے رہیں کہ آپ فقط نصیحت کرنے والے ہیں۔
🌼 لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ
آپ ان پر مسلط نہیں ہیں۔

🔸 اطاعت رسول ص کے تین مواقع:
جو آیات مجیدہ رسول اکرم ص کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرت کی اطاعت سیاسی، عدالتی اور انتظامی مسائل میں محدود کی جاسکتی یعنی پیغمبر اکرم ص تبلیغ کے احکام کے منصب کے علاوہ رہبر سیاسی، سردار عدلیہ اور سالار فوج بھی ہیں ان تمام شعبہ جات میں نافذالقول اور واجب الاطاعت ہیں۔
▪️ ا) مسائل سیاسی میں اطاعت:
جنگ کے دوران واقع ہونے والے حساس مسائل میں سے ایک مورچوں کے حالات سے واقفیت اور فتح اور شکست سے متعلق کیفیات معلوم کرنا ہوتا ہے ان حالات کے نشر اور عدم نشر کے بارے میں غور و فکر اور سوچ وبچار نیز عام مصلحتوں میں تفکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید رسول اکرم ص کا تعارت کرواتے ہوئے فرماتا ہے:
🌼 وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّیۡطٰنَ اِلَّا قَلِیۡلًا۔
۔ 〰️ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے خوب پھیلاتے ہیں اور اگر وہ اس خبر کو رسول اور اپنے میں سے صاحبان امر تک پہنچا دیتے تو ان میں سے اہل تحقیق اس خبر کی حقیقت کو جان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند ایک افراد کے سوا باقی تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔
کامیابی کی خبر اور بے موقع محل پھیلانا اکثر تکبر اور غرور کا باعث ہوتا ہے اس طرح شکست کی خبر کی اشاعت قلوب کی کمزوری کا سبب ہوتا ہے لہٰذا مسلمانوں کا فرض اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ تمہیں ملنے والی خبر کو پیغمبر اکرم ص کہ پیش نظر کریں تا کہ یہ حضرات اصلیت و حقیقت معلوم کرنے کے بعد دیگر مسلمانوں کو حقیقت سے آگاہ کریں۔
یہ آیت کریمہ پیغمبر اکرم ص کی سیاسی حالات میں رہبری کی نشان دہی کرتی ہے اس میں اولی الامر کا ذکر کسی طرح بھی آنحضرت ص کے بطور سیاسی رہبر ہونے کے منافی نہیں کیونکہ اولی الامر آپ ہی کے حکم سے صاحبان امر اور عوام الناس کے لئے پیشوا قرار پاتے ہیں۔
▪️ ب) مسائل عدلیہ میں اطاعت:
جناب رسالت مآب ص اس آیہ مبارکہ کے مطابق ایک یگانہ سیاسی رہبر ہیں تو دیگر آیات کے مطابق مسائل عدلیہ میں بھی یگانہ رہبر قرار پاتے ہیں بلکہ دیگر حکام عدلیہ کے فیصلہ بھی صحت کے اعتبار سے آپ ہی کے فرامین و نصاب کے مرہون منت ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

🌼 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا۔
〰️ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔
یہ آیت مبارکہ کے حکم دیتی ہے کہ اپنی مشکلات قضاوت کو خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اللہ تعالی کی طرف لوٹا نے سے اس کے نمائندہ کی جانب رجوع کرنا مراد ہے۔
ج)مسائل انتظامی میں اطاعت:
قرآن مجید جناب رسول خدا ص کو تنظیمی مسائل میں بھی ماہر و یکتا رہبر قرار دیتا ہے، اس سلسلے میں حکم دیتا ہے کہ انتظامی مسائل کے معمولی سے معمولی پہلو کے لیے مثلا میدان جنگ سے رخصت وغیرہ میں آپ کی اجازت حاصل کی جائے اگر آپ کی اجازت نہ ہو تو چاہیے کہ میدان جنگ میں اپنی موجودگی کی تمام امور پر مقدم رکھیں۔
🌼 اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اِذَا کَانُوۡا مَعَہٗ عَلٰۤی اَمۡرٍ جَامِعٍ لَّمۡ یَذۡہَبُوۡا حَتّٰی یَسۡتَاۡذِنُوۡہُ ؕ
〰️ مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ص پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ کسی اجتماعی معاملے میں رسول اللہ ص کے ساتھ ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتے۔

امر جامع کے معنی ہیں وہ اہم کام جس میں لوگوں کا اجتماع لازم ہو اس کا مصداق واضح دشمن سے جہاد و مبارزہ ہے۔ آیات مبارکہ کے شان نزول انہی معنی کی تائید کرتی ہے۔

~ ان آیات مجیدہ کے ذریعے پیغمبر اکرم ص کا سیاسی و عدالتی تنظیمی امور میں یگانہ و یکتا رہبر کے طور پر متعارف کرانا معاشرے کے جملہ مصلحتوں کی حفاظت کی خاطر ہے تاکہ تمام معاملات کے لیے ایک ہی مرکز اصلاح قرار پائے تمام شعبہ جات کے مختلف مسائل ایک ہی مرکز کے گرد گردش کریں اور تمام امور ایک ہی فکر و ذہن سایہ فگن رہے۔

2)احترام پیغمبر اکرم ص
پیغمبر اسلام ص کے اعزاز و تکریم کے لیے بس اسی قدر اس بات کو درک کرنا کافی ہے کہ قرآن مجید ایک سلسلہ افعال کو اللہ تعالی سے منسوب کرتے ہوئے ان ہی افعال کی آنحضرت ص کی طرف نسبت دیتا ہے حتی کہ ان افعال کے لئے خدا اور رسول ص دونوں کا ایک ہی جگہ نام لیتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

🌼 وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۙ وَ قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ سَیُؤۡتِیۡنَا اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ رَسُوۡلُہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوۡنَ
〰️ اور کیا ہی اچھا ہوتا کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ انہیں دیا ہے وہ اس پر راضی ہو جاتے اور کہتے: ہمارے لیے اللہ کافی ہے، عنقریب اللہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں۔
ہر مسلمان آیت مبارکہ کے مطابق جملہ “حسبنا اللّٰہ” میں شامل ہے اس کے باوجود اسی آیہ میں پروردگار عالم اپنے پیغمبر اکرم ص کے احترام کو اس درجہ مدنظر فرماتے ہیں کہ آنحضرت ص کے اسم گرامی کو خود اپنے نام کے ساتھ توام کرتے ہوئے ایک ہی عمل کو دونوں کے ساتھ منسوب فرماتے ہیں:
~ سَیُؤۡتِیۡنَا اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ رَسُوۡلُہٗۤ
~مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ

🌹 ا) تکریم اور احترام پیغمبر ص کے بارے میں ہدایات و حکم:

قرآن مجید اپنی آیات مقدسہ میں اسلامی معاشرے کو اپنے رسول ص کی تکریم اور احترام کا حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے:

🌼 اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا
〰️ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے،
🌼 لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا
〰️ تاکہ تم (مسلمان) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد کرو، اس کی تعظیم کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔
ب) بات کرنے میں متانت و سنجیدگی:
اس موضوع پر ہم صرف سورہ حجرات میں آنے والے آیت پر ہی اکتفا کریں گے:
🌼 یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ

〰️ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات نہ کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔
🌼 اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصۡوَاتَہُمۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ لِلتَّقۡوٰی ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ
〰️ جو لوگ اللہ کے رسول کے سامنے دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں بلاشبہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
🌼 اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الۡحُجُرٰتِ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ
〰️ جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں بلاشبہ ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے ۔
🌼 وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰی تَخۡرُجَ اِلَیۡہِمۡ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔
〰️ اور اگر یہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی طرف نکل آتے تو ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا، خوب رحم کرنے والا ہے۔
3)پیغمبر اکرم ص کو اذیت دینا حرام ہے:
یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات تاکید کے ساتھ آنحضرت ص کو اذیت دینے کو حرام قرار دیتی ہے ارشاد ہوتا ہے:
🌼 اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا

〰️ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ص کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے ان کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

4)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد سے متعلق مسلمانوں کے فرائض:

تمام انبیاء علیہم السلام کا شعارواعلان یہ رہا ہے۔

🌼 وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ
〰️ اور اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔

لیکن اس کے باوجود قرآن مجید ایک اور آیت میں مختلف انداز سخن تیار کرتے ہوئے یاد دلاتا ہے کہ تمہاری ہدایت کی خاطر میری سعی کی اجرت اور معاوضہ میرے اقربا کے ساتھ مودت و محبت میں شامل ہے ارشاد ہوتا ہے:
🌼 ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ
〰️ یہ وہ بات ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو خوشخبری دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور اعمال صالح بجا لاتے ہیں، کہدیجئے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے

5) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود:
قرآن مجید فرائض مومنین میں ایک بات یہ بھی قرار دیتا ہے کہ وہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
🌼 اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا
اللہ اور اس کے فرشتے یقینا نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔

اللھم صل علی محمد وآل محمد و عجل فرجھم