Print Friendly, PDF & Email

🔷 *بسمہ اللہ الرحمن الرحیم* 🔷

 

🔸 *10 ماہ آسان قرآن کوئز 21-2020*🔸

 

🌹 *حضرت محمد ص در قرآن*🌹

       *حبیب خدا ص کلام خدا میں* 

(حصہ دوم)

 

*موضوعات:*

1. عصمت رسول خدا ص در قرآن

2.بعثت رسول اکرم ص

3. پیغمبرِ اکرم ص کی صفات بزبان قرآن مجید

 

☀️ 1۔ *عصمت رسول اکرم ص در قرآن*

 

لفظ عصمت قرآن میں تیره مرتبہ وارد ہوا ہے.

 

 🔅 *عصمت کے معنی:* روکنا اور ممانعت کے ہیں۔ 

–  معصوم یعنی وہ انسان جس میں تقوا وپاکدامنی کی  کامل کیفیت پائی جاتی ہو، جو اس کے نفس و روح میں راسخ ہو چکی ہو۔ وہ اس درجہ پر پہنچ چکا ہوتا ہے کہ عصیان و تجاوز و گناہ و غلطی اپنی زندگی سے دور کر کے اپنے کردار کو گناه و لغزش سے پاک کرلیتا ہے۔

 

حقیقت میں عصمت تقوا کا بلند ترین درجہ ہے.

 

دوسرے لفظوں میں عصمت نفس معصوم میں ایک ملکہ نفسانی کا نام ہے 

 

عصمت ایک لطف الهی ہے جس میں اس کے خاص بندہے شامل ہوتے ہیں۔

◾ *قرآن میں انبیاء کی عصمت کی گواہی:* 

تمام انبیاء عصمت کے درجہ پر فائز ہیں۔ وه گناه و غلطی سے منزه و پاک ہیں.   قرآن ارشاد فرماتا ہے:

*(أُو۟لَـٰۤىِٕكَ ٱلَّذِینَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡۗ قُل لَّاۤ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَیۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡعَـٰلَمِینَ)* الانعام 90 

~ترحمہ: وه(جن انبیاء کا نام گذشتہ آیات میں لیا گیا) ایسے لوگ ہیں جنهیں خدا نے ہدایت فرمائی ہے ، اس بنا پر ان کی پیروی کرو- کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا-یقینا قرآن عالمین کے لیے وسیلہ یاد دہانی کے سوا اور کچھ نہیں. 

 

▪️ *عصمت کی اقسام :* 

1۔ گناہ اور خطا سے عصمت

2۔ وحی کے دریافت اور ابلاغ میں عصمت

 دونوں اقسام پر عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر اس حوالے سے کسی گناہ یا خطا اور وحی کے حصول یا پہنچانے میں اشتباه کا احتمال موجود ہو تو کوئی انبیاء پر بھروسہ اور اعتماد نہیں کرے گا اور وحی کی صحیح ہونے کی ضمانت ختم ہو جائے گی یوں انبیاء کے بهیجنے کا ہدف اور مقصد ختم ہوجاتا ہےجو کہ ایک محال امر ہے.

 

▪️ *عصمت رسول اکرم ص در قرآن* 

پیغمبر اکرم ص

کی عصمت دونوں اقسام میں قرآن سے ثابت ہے۔

 

 کوئی شخص آپ ص کی عصمت سے انکار نہیں کر سکتا۔

قرآن ارشاد فرماتا ہے

🔅 *(وَمَا یَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰۤ)* النجم/3

~ وه آپنے نفسانی خواہش سے کوئی بات نہیں کہتا.

(إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡیࣱ یُوحَىٰ)4 نجم

بلکہ وحی الہی ہی ہے، جس کا اسے القاء ہوتا ہے.

 

اس سے زیادہ اور روشن و واضع دلیل نہیں هو سکتی.

 

———————-

 

☀️ *2۔ بعثت رسول اکرم ص** 

▪️ *بعثت کا معنی* 

دینی اصطلاح میں خدا کی طرف سے انسانون کی ہدایت کیلئے کسی نبی یا رسول کے بیجنے کو بعثت کہا جاتا ہے.

قرآن نے بعثت کا لفظ مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے.

لیکن “انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کا بیجهنا”، اس معنی کے لئے لفظ بعثت 14 جگہوں پر  استعمال ہوا ہے -مثلآ:

🔅 *فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِیّـِنَ مُبَشِّرِ یْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ* .سوره بقره 213

~الله نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بهیجے ۔

 

▪️ *انبیاء کی بعثت کا مقصد*

قرآن میں کئی مقاصد بیان کئے گئے ہیں ہم چند کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

🔅1 توحید :

انسان کی خلقت کا مقصد اس کا خدا اور قیامت سے آگاه ہونا ہے ،

انسان خدا کی پهچان کے بغیر اپنے کمال کی حد تک نہیں پہنچ سکتا اور یہ معرفت انبیاء کے ذریعے ہی سے ممکن ہے کیونکہ عقل ہمیں ایک حد تک کلی طور پر خدا کے بارے میں بتاتی ہے۔

پیغمبر اکرم ص فرماتے ہے،:

*خدا نے تمام انبیاء و رسل کواس لیے مبعوث کیا ہے تاکہ وه انسانی عقلوں کو کمال تک پہنچائیں* ، 

لہذا ضروری ہے کہ نبی کی عقل اپنی امت کی عقلوں سے بالا تر هو .

(تفسیر موضوعی قرآن کا دائمی منشور جلد 10، صفحہ -424)

*2 . اختلافات کا خاتمہ:*

انبیاء بهیجنے کا دو سرا مقصد اختلافات اور گروه بندی کا خاتمہ تها ، انبیاء کی تعلیمات اور جدوجہد کا مقصد یہ بھی تھا کے انسانوں کے درمیان گروه بندی کو ختم کیا جائے .

(تفسیر موضوعی قرآن کا دائمی منشور جلد-10..صفحہ 426 )

 

*3 .رقابتوں کا فیصلہ*

انبیاء کے بهیجنے کا ایک اور مقصد لڑائی جهگڑوں اور تنازعات میں فیصلہ کرنا تها۔

انبیاء  کلی احکام کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان انفرادی اختلافات کے خاتمے کے لیے قضاوت بھی کرتے تھے۔ 

(تفسیر موضوعی:قرآن کا دائمی منشور جلد ، 10،صفحه- 433)

 

*4۔ عدل کا قیام*

انبیاء کی بعثت کا مقصد انسانی معاشر ے میں عدل کا قیام ہے 

قرآن ارشاد فرما تا ہے،:

🔅 *وَ لِکُلِّ اُمَّهٍ رَّسُوْلٌ فَاِذَا جَا۶َ رَسُوْلُهُوْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ * (سوره یونس 47)

~ہر امت کے لیے نبی ہے ، جب بهی ان کا نبی آتا تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ هوتا اور ان پر ظلم نہیں کیا جا ئے گا-

 

*5.کتاب و حکمت کی تعلیم دینا.*

(تفسیر موضوعی قرآن کا دائمی منشور )

کتاب سے مراد ہر نبی کی کتاب جس کے ساتھ اسے مبعوث کیا ہے .

حکمت سے مراد وه حکیمانہ احکام ہیں جو دونوں جهانوں میں انسان کی سعادت اور بھلائی کے ضامن ہیں.

 

*6۔بندوں پر اتمام حجت* 

انبیاء کی بعثت کا مقصد لوگوں پر اتمام حجت کرنا ہے ،

اِنَّاھَدَیْنهْ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًاوَّاِمَّا کَفُوْرًا (دهر 3) 

ترجمہ:ہم نے اسے (هدایت کا ) راستہ دکهادیا ہے اب یاتووه شکر ادا کرتا ہے یا کفر اختیار کرلیتا ہے.

▪️ *حضرت رسول اکرم ص کی بعثت* 

مبعث یا بعثت اس دن کو کہا جاتا ہے جس میں آپ ص کو پیغمبری ملی۔ یون یہ دن دین اسلام کا سر آغاز قرار پاتاہے ،

 

جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت آپ ص کی عمر 40سال تهی اور آپ ص غار حراء جو کوه نور مکہ سے نزدیک پهاڑ میں واقع ہے ،

 

آپ ص خدا کے ساتھ راز و نیاز میں مشغول تهے کہ اسی اثنا میں سوره علق کی پہلی چند آیات کے نزول کے ساتھ آپ ص کی بعثت کا آغاز ہوا.پیغمبر اکرم ص نے سب سے پہلے اپنی زوجہ اور چچازاد بهائی حضرت علی کو اس واقع سے آگاه فرمایا،

امام علی ع فرماتے ہیں :

پیغمبر اکرم ص ہر سال غار حرا میں کجھ عرصہ قیام فرماتے تهے اور وہاں میرے علاوه کوئی انہیں نہیں دیکهتا تھا۔ اس وقت رسول ص

اور حضرت خدیجه کے گهر کے علاوه کسی گهر کی چار دیواری میں اسلام نہ تها، البتہ ان میں تیسرا شخص میں تها، وحی اور رسالت کا نور دیکھتا تها اور نبوت کی خوشبو سونگھتا تها۔

 

(نہج البلاغه – مفتی جعفر حسین ،خطبہ 190*

صفحه 408

 

*مسلمانوں میں بعثت کی اهمیت*

*بعثت کا واقعہ مسلمانوں کی  رسومات میں ایک خاص منزلت رکھتا ہے۔ تمام مسلمان 27 رجب کو عید بعثت  مناتے ہیں۔ یہ تمام انسانیت کیلئے ایک بہت عظیم دن ہے۔*

 

۔۔۔۔۔۔..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 ☀️ *3۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بزبان قرآن مجید*:

 

🔹 *پیغمبر خاتم ص کی قائدانہ دشواریاں*: 

   وہ اقوام جن کی ہدایت کا حضرت ص نے بیڑا اٹھا رکھا تھا علم اور تمدن عقل اور آگہی ،اخلاق و تنظیم کے اعتبار سے برابر سطح پر نہ تھیں- اسی اختلاف نے بے انتہا مشکلات آنحضرت ص کی قیادت کے راستے میں کھڑی کر رکھی تھی اللہ تعالی نے ان مشکلات پر قابو پانے کے لیے آنحضرت ص کو ایسی عظیم استعداد مرحمت فرمائی تھی جو کمالات کے مجموعے کی مظہر تھی ۔ حضرت ص نے اپنے افکار حکیمانہ کے سائے میں اپنے مقاصد اور امت سے ہمدردی کی خاطر اس تمام مشکلات کو حل فرما کر ایسے تمدن کی بنیاد رکھی جس کی صفحہ ہستی پر اور کوئی نظیر نہیں ملتی۔

 

پروردگار عالم قرآن مجید میں نہایت خوبصورت الفاظ میں اپنے پیغمبر خاتم ص کے کلمات روحانی اور میدان قیادت میں کامیابی کے علل اسباب کی طرف اشارہ فرماتا ہے: 

یہ اس عظیم شخصیت کی وہ صفات ہیں جنہیں قرآن مجید میں درج ذیل عناوین میں ذکر کیا ہے۔۔۔

  🔹 *1) ہدف و مقصد سے ارتباط اور خلوص*:

ہدف اور مقصد کے ساتھ ارتباط و محبت ایک ایسا خود کار عمل ہے جو کسی بھی بڑے یا چھوٹے معاشرے کی ذمہ دار قائد کی کوشش اور مشکلات پر قابو پا لینے کے لیے تیاروآمادہ کرتا ہے۔ قرآن مجید پیغمبر اسلام ص کے لوگوں کی ہدایت کے سلسلے میں قابل تحسین خلوص کی اس طرح صراحت فرماتا ہے:

🔅 *فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا*

~ترجمہ: پس اگر یہ لوگ اس (قرآنی) مضمون پر ایمان نہ لائے تو ان کی وجہ سے شاید آپ اس رنج میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

یہ جملہ ایک قائد اجتماعی کے اس انتہائی خلوص و تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو طبیب اخلاق اپنے مریضوں کے علاج کے لئے رکھتا ہے اور اس سلسلے میں اس قدر کوشش اور محنت کرتا ہے کہ اپنی ہلاکت اور جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

ایک اور آیات مبارکہ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

🔅 *وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا تَکُنۡ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ*

~ترجمہ: اور (اے رسول) ان (کے حال) پر رنجیدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی مکاریوں پر دل تنگ ہوں۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:

🔅 *فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ*

~ترجمہ : لہٰذا ان لوگوں پر افسوس میں آپ کی جان نہ چلی جائے، یہ جو کچھ کر رہے ہیں یقینا اللہ کو اس کا خوب علم ہے۔

🔸 *2) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مظہر خلق عظیم:*

اصولی طور پہ غصہ اور تیز مزاجی نظرانداز کرنے اور معافی کے جذبے کا فقدان کسی قائد کو زیادہ سے زیادہ مشکلات اور انجام کار شکست سے دوچار کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ابھی تربیت و تنظیم کا ذائقہ نہیں چکھا ہوتا قائد سے پراگندہ ہوکر اس کی دوستی سے روگرداں ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید کی صراحت کے مطابق پیغمبرِ اسلام ص عطوفت و حلم کی اس منزل پر فائز تھے جس پر ایک قائد کو نرمی و درگزر کے سلسلے میں صحیح طور پر ہونا چاہیے یعنی شیوہ اخلاق کے آخری درجے پر آپ کا مقام تھا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

🔅 *فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ* 

~(اے رسول) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کر لیا کریں۔

قرآن مجید میں مکی سورتوں میں سے ایک میں لوگوں میں گھل مل جانے کے طریقے اور قیادت کی ذمہ داری کو اس طرح بیان فرماتا ہے:

🔅 *وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ*

*وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡم*

~ترجمہ: اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، آپ (بدی کو) بہترین نیکی سے دفع کریں تو آپ دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ گویا نہایت قریبی دوست بن گیا ہے۔اور یہ (خصلت) صرف صبر کرنے والوں کو ملتی ہے اور یہ صفت صرف انہیں ملتی ہے جو بڑے نصیب والے ہیں۔

 

اس شیوہ اخلاق کے موثر ہونے کا سبب یہ ہے کہ بد کار لوگ انتقام وہ مکافات کے منتظر و متوقع رہتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی توقع کے خلاف بدی کا جواب اچھائی میں پایا تو ان کا وجدان ملامت گر یعنی نفس لوامہ بیدار ہو کر ان کے اندر تنقید اور سرزنش کو ہوا دینے لگتا ، یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں عداوت اور کینہ کی جگہ آہستہ آہستہ مہر و محبت و الفت اور خلوص پیدا ہونے لگتے ہیں-

حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ص کے لئے بالکل سچ اور درست کہا گیا ہے ” *حسنت جمیع خصالہ*” یعنی آپ انتہائی حسین خصائل کے ساتھ خلق ہوئے ہیں۔ پیغمبر ص نے اپنے خوبصورت اور پسندیدہ اخلاق سے اس خطبہ قرآن کو تحقق فراہم کیا ہے جس میں آپ کا حکم دیا گیا ہے۔

🔅 *وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ*

اور مومنین میں سے جو آپ کی پیروی کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں۔ 

🔅 *فَاِنۡ عَصَوۡکَ فَقُلۡ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ*

اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو ان سے کہدیجئے کہ میں تمہارے کردار سے بیزار ہوں۔

 

*3) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیکر صبر و بردباری:*

پروردگار عالم نے آغاز سے بعثت میں ہی پیغمبر اسلام ص کو اس ذمہ داری کی سنگینی سے جو آپ نے اپنے ذمے لے رکھی تھی آگاہ کرتے ہوئے فرما دیا تھا:

🔅 *اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا*

عنقریب آپ پر ہم ایک بھاری حکم (کا بوجھ) ڈالنے والے ہیں۔

یہ قول سنگین آپ کی عالمی رسالت ہے جس کی آپ پر ادائیگی اور جس پر آپ کے پیروان کا عمل دونوں سنگین اور مشکل امور ہیں اس قسم کی بلند مرتبہ رسالت کا ایک روح مستقل وصابر و بردبار کے بغیر انجام دینا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات مجیدہ میں آنحضرت ص کو صبر و شکیبائی کی دعوت دی گئی ہے ۔

نزول وحی کے آغاز میں سورہ مدثر میں آنحضرت ص سے اس طرح خطاب ہوتا ہے:

🔅 *وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ*

اور اپنے رب کی خاطر صبر کیجیے۔

🔸 *4) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت بہ نظر قرآن مجید:*

اولیائے خدا عبادت ہائے نیم شب جن میں اشک شوق اور سوز دل شامل ہوتے ہیں ان کی عظیم معرفت کی دلیل ہے جو وہ اللہ تعالی سے رکھتے ہیں اسی کامل شوق و عشق کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے قلوب میں ایک خاص احساس پیدا کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنے کام ودہن میں لذت شہود معبود کی شیرنی محسوس کرتے ہوئے خواب لذیذ بالش نازاں بستر گرم کو بھلا دیتے ہیں اسی طرح یہ حضرت اپنے پروردگار سے گھنٹوں راز و نیاز کی حالت برقرار رکھتے ہیں یہ وہی کیفیت ہے جس میں رسول اکرم ص بعض اوقات رات کی دو تہائیاں محراب عبادت میں مصروف کر دیتے تھے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھی آنحضرت کی عبادت سے واقعیت حاصل کریں۔

#خداوندعالم سورہ اسراء میں رسول اکرم ص کو نماز تہجد کا حکم دیتا ہے کہ یہی عبادت نیم شب کہلاتی ہے چنانچہ فرماتا ہے:

🔅 *وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا*

~ترجمہ : اور رات کا کچھ حصہ قرآن کے ساتھ بیداری میں گزارو، یہ ایک زائد (عمل) صرف آپ کے لیے ہے، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔

خداوندعالم سورہ مزمل میں عبادت نیم شب میں کمی اور اس کی لذت کو بیان فرماتا ہے اسے عبادت کا وقت رات کا ہے اللہ تعالی کی عبادت کو رات کی ایک تہائی سے دو تنہائی تک مقرر فرماتا ہے اور رات میں قیام تہجد کے فلسفے کو ایک ایسا عمل قرار دیتا ہے جو عبادت کے اہداف اور مقاصد کے آگے بڑھتے ہیں پورے طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 

سورہ مزمل میں ایسی آیات ہیں جو پیغمبر اکرم ص کے مومنین کی ایک جماعت کے ہمراہ رات کے وقت عبادت کے لیے قیام کا ذکر کرتی ہے ارشاد ہوتا ہے:

 

🔅 *اِنَّ رَبَّکَ یَعۡلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدۡنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَ نِصۡفَہٗ وَ ثُلُثَہٗ وَ طَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ مَعَکَ*

 آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ دو تہائی رات کے قریب یا آدھی رات یا ایک تہائی رات (تہجد کے لیے) کھڑے رہتے ہیں اور آپ کے ساتھ ایک جماعت بھی (کھڑی رہتی ہے) 

🔸 *5)پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔۔۔۔وسعت علم اور آگہی*:

کرہ ارض پر قدم رکھنے والے قدم روز ازل سے صفحہ ہستی پر آنے والے انسانوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم دانا ترین اور آگاہ ترین انسان ہیں۔ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وآگہی کا ان الفاظ میں ذکر فرماتا ہے:

  🔅 *وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمۡ تَکُنۡ تَعۡلَمُ ؕ وَ کَانَ فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا*

~ترجمہ : اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل کی اور آپ کو ان باتوں کی تعلیم دی جنہیں آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔

برید جو امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں سے ہیں روایت کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک امام معصوم جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم اور حکمت کے بارے میں آیات سے استدلال فرماتے ہیں:

 🔅 *وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ* 

~ترجمہ : ( متشابہات یا ) پورے قرآن کی تاویل تو صرف خدا اور علم میں راسخ مقام رکھنے والے ہی جانتے ہیں۔

اس سلسلے میں امام علیہ السلام نے اس طرح فرمایا:

“پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم راسخان فی العلم میں سب سے زیادہ افضل ہیں اللہ تعالی نے تنزیل اور تاویل قرآن مجید کی آپ کو تعلیم دی اور یہ بات پروردگار عالم کے شایان شان نہیں کہ کوئی چیز آپ پر نازل فرمائے اور اس کی حقیقت سے آپ کو آگاہ نہ فرمائے”.

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ معصومین علیہ السلام کا علم پیغمبر اکرم کا پرتو ہے تمام صحیح اور مستند وثاقہ احادیث جو ہمارے پاس موجود ہیں سب آنحضرت ص پر منتہی ہوتی ہیں اور ان کا مطالعہ حضرت ص کے عظیم علم پر واضح روشن گواہ ہے۔

 

🔸 *6) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے لئے تحفظ عذاب کا سبب*

 شناخت کے معنی:

انسان کے اعمال بد دنیا میں اپنا عکس عمل رکھتے ہیں اور دوسری دنیا میں سزا کا باعث ہوتے ہیں کسی معاشرے میں آثار گناہ میں سے ایک معاشرے پر نزول عذاب ہے۔ جس کی آیات قرآن مجید احادیث شریف میں تصریح کی گئی ہے اس کے بارے میں سرکش اقوام کے نیست ونابود ہونے سے متعلق قرآن مجید کی آیات کا مطالعہ ہی کافی ہے البتہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود زیجود کے آثار میں ایک یہ ہے کہ جب آپ لوگوں کے درمیان موجود ہیں ان پر اللہ تعالی نزول عذاب نہیں فرماتا ۔ آیہ ذیل میں اس کیفیت کی تصریح ہو رہی ہے:

🔅 *وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمۡ وَ اَنۡتَ فِیۡہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمۡ وَ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ*

~ترجمہ : اور اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے جب وہ استغفار کر رہے ہوں۔

سب سے پہلے جس ہستی نے قرآن مجید سے اس خصوصیت کا استخراج فرمایا مولائے کل حضرت امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات و الصفات ہے اپنے کلمات قصار میں ایک جگہ حضرت فرماتے ہیں:

*روئے زمین پر دو موثر ذرائع امان ہیں جن میں سے ایک کو اٹھا لیا گیا ہے بس دوسرے کو مضبوطی سے پکڑے رہو اس سے متمسک رہو جو اٹھا لیا گیا وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور جو باقی ہے اس کو طلب مغفرت کہتے ہیں خداوند متعال فرماتا ہے کہ اس (اللہ تعالی) کے شایان شان نہیں کے ان کو عذاب کرے جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں۔*

🔸 *7.پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔ شفیع روز جزا*

پیغمبر اسلام ص روز قیامت شفیع قرار پائیں گے، اس بارے میں قرآن مجید کی آیت مبارکہ بطور سند پیش کرنے پر اکتفا کریں گے:

🔅 *وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا*

اور رات کا کچھ حصہ قرآن کے ساتھ بیداری میں گزارو، یہ ایک زائد (عمل) صرف آپ کے لیے ہے، امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔( سوره آسرا ۔79)

 طبرسی فرماتے ہیں کہ مفسرین اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آنحضرت ص کا مقام شفاعت ہی ہے اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ *پیغمبر اسلام ص قیامت کے دن لواء الحمد( پرچم سپاس و ستائش کو اپنے دست مبارک میں لیں گے جملہ انبیاء علیہم السلام کے نیچے جمع ہوں گے اور آپ وہ پہلے فرد ہوں گے جو شفاعت فرمائیں گے اور ان کی شفاعت قبول ہوگی)*

 سیوطی کتاب دارالمنثور اور سید ہاشم بحرانی نے تفسیر برہان میں وہ احادیث نقل فرمائی ہیں جو مقامی محمود کی مقام شفاعت کے طور پر تفسیر کرتی ہیں۔

🔸 *8۔ حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔۔رؤف و مہربان*:

 پیغمبر اسلام ص کی خصوصیات میں سے ایک آپ کا ایماندار معاشرے کے ساتھ تعلق، آپ کی شفقت اور مہربانی ہے قرآن مجید میں اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے:

🔅 *لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ*

~ترجمہ : بتحقیق تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے تمہیں تکلیف میں دیکھنا ان پر شاق گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کا نہایت خواہاں ہے اور مومنین کے لیے نہایت شفیق، مہربان ہے۔

*9.پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔۔ صاحب کوثر*:

 جناب رسالت مآب ص کے دو صاحبزادے تھے جن کے اسمائے گرامی قاسم اور عبداللہ تھے یک بعد دیگر وفات پا گئے اس پر عاص بن وائل وغیرہ جیسے آپ کے حتمی دشمنوں نے آپ ص کو عقیم اور ابر کہنا شروع کر دیا قرآن مجید نے اس سلسلے میں خاص سورہ مبارکہ کے ذریعہ آپ سے خطاب فرمایا جو مکہ میں نازل ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے:

🔅 *اِنَّاۤ اَعۡطَیۡنٰکَ الۡکَوۡثَرَ ؕ*

~ترجمہ : بیشک ہم نے ہی آپ کو کوثر عطا فرمایا۔(سوره کوثر)

 مفسرین کوثر کے معنی میں بہت سخت خلاف کیا ہے تاہم اختلاف کے دائرے کو جتنا بھی وسیع کر دیا جائے کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ آنحضرت ص کی وسیع نسل کے مصادیق کو ان معانی سے خارج کیا جا سکے یہ اس لیے کہ آیت مبارکہ کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جملہ اول ان بد خواہوں کی گفتگو کا جواب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔

 لہذا اس قسم کی گفتگو کے لئے آتا ہے کہ لفظ کوثر کی اس طرح تفسیر کی جائے جو ان بدبختوں کی گفتگو کا جواب اس بات کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ کہا جائے کے اس بدخواہ کے کہنے کے خلاف آپ نہ صرف ابتر اور عقیم نہیں ہیں بلکہ آپ ایک ایسی نسل و اولاد کے مالک ہیں جس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ہو سکتی۔

*10.پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم …..شاہد پر اعمال امت:*

 آنحضرت ص کے اس مقام کے لئے درج ذیل آیات مبارکہ وارد ہوتی ہے:

 

🔅 *یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا* 

اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے،( سوره احزاب ۔۔45)

 

 ▪️ *شَاہِدًا* : روز قیامت رسول اللہؐ اعمال امت کے گواہ کے طور پر حاضر ہوں گے۔

 ▪️ *مُبَشِّرًا* : مؤمنین کو نجات اور جنت کی بشارت دینے والے ہیں۔

 ▪️ *نَذِیۡرًا :* منکرین کے لیے غضب الہٰی کی تنبیہ کرنے والے ہیں۔ 

 

🔅 *وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا*

~ترجمہ : اور اس (اللہ) کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔

 

  🔅 *دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ* :

  1.  اللہ کی طرف جو دعوت رسول اللہؐ ص دے رہے ہیں اس کے پیچھے اذن خدا ہونے کی وجہجس سے یہ خود اللہ کی دعوت ہے۔

 🔅 *سِرَاجًا مُّنِیۡرًا :* 

اندھیروں میں ایسا چراغ ہیں جو گیا جو ہر ایک کی دست رسی میں ہے۔06:43:34