غدیر و مباہلہ از قرآن

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

آسان قرآن کوئز۔۔۔2020

((بعنوان غدیر و مباہلہ از قرآن))

موضوعات

  1. آیہ بلغ ۔۔
  2. آیہ اکمال دین
  3. آیہ مباہلہ
  4. آیہ بلغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌺يَاأَيُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴿۶۷﴾
⁦⬅️⁩اے رسول ! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا، بے شک اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔

🌺انتخابِ جانشین پیغمبر ہی آخری کار سالت:
🔷اس آیت میں روئے سخن صرف پیغمبر ص کی طرف ہے اور یہ آیت صرف انہی کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے ۔ <یَااٴَیُّھَا الرَّسُولُ اے پیغمبر! سے اس آیت کی ابتدا ہورہی ہے اور یہ آیت صراحت اور تاکید کے ساتھ پیغمبر ص کو حکم دے رہی ہے کہ جو کچھ اُ ن پر اُن کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اُسے لوگوں تک پہنچادیں < بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّک

🌺کار رسالت:
🔷اس کے بعد (اس حکم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے) تاکید مزید کے طور پر اس خطرے سے متنبّہ کرتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا (حالانکہ وہ ہرگز اس کام کی سرانجام دہی کو ترک نہ کرتے ) تویہ ایسا ہوگا گویا تم نے (کوئی) کار رسالت سرانجام ہی نہیںدیا <وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ ۔

🌺تسلی از جناب خدا:
🔷 اس کے بعد پیغمبر اکرم ص کے اضطراب وپریشانی کو دور کرنے کے لئے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: اس رسالت اور پیغام کی ادائیگی کے بارے میں تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا تمھیں اُن خطرات سے محفوظ رکھے گا<وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس۔
🌺پیغام ولایت کا انکار در اصل گمراھی کی دعوت کا انتخاب:
🔷اور آیت کے آخر میں اُن لوگوں سے جو اس مخصوص پیغام کا انکار کریں اور اس کے خلاف ہٹ دھرمی کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیں ایک تہدید اور سزا کے عنوان سے یوں کہتا ہے: خدا ہٹ دھرمی کرنے والے کافروں کو ہدایت نہیں کرتا <إِنَّ اللهَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ۔
🌺یا ایھا الرسل سے مراد:
🔷آیت کے جملوں کی بندش، اس کا مخصوص لب ولہجہ اور اس میں پے در پے تاکیدوں پر تاکیدیں اور آیت کا ”یا ایہا الرسل“ سے شروع ہونا جو تمام قرآن مجید میں صرف دو مقام پر ہے اور اس حکم کی تعمیل اور اس رسالت کی تبلیغ نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر ص کو یہ تہدید کہ اگر تم نے اس حکم کے پہنچانے میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے کوئی رسالت سرانجام ہی نہیں دیا جو قرآن میں صرف اسی آیت میں ہے، اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گفتگو کسی ایسے اہم امر کے متعلق ہورہی ہے کہ جس کی تبلیغ نہ کرنا کوئی بھی کارِ رسالت سرانجام نہ دینے کے برابر ہے ۔
🌺اہمیت پیغام کا اندازہ:
🔷 اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ موضوع ایسا تھا جس پر شدّت کے ساتھ مخالفت پیدا ہوچکی تھی اور اس موضوع کے مخالفین اتنے سخت تھے کہ اُن کی مخالفت کے پیش نظر پیغمبر ص بہت ہی پریشان تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس اعلان کو سن کر اسلام اور مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کردیں اسی لئے خداوندتعالیٰ انھیں تسلی دیتا ہے ۔
🌺مورد بحث:
❓سوال:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسا ایسا اہم مقصد ومطلب تھا جس کے پہنچانے کے لئے خداوندتعالیٰ اپنے پیغمبر ص کو اتنی تاکید کے ساتھ حکم دے رہا ہے؟
❓کیا یہ توحید اور شرک وبت پرستی سے مربوط مسائل تھے جو برسوں پہلے پیغمبر ص اور مسلمانوں کے لئے حل ہوچکے تھے؟
❓یا یہ مسائل احکام شرع اور قوانین اسلام سے متعلق تھے؛ جبکہ اس وقت تک اُن کے اہم ترین مسائل بیان ہوچکے تھے ؟
❓یا یہ مسائل اہلِ کتاب ویہود ونصاریٰ سے مربوط تھے؛
🌺تاریخی حوالہ:
🔷حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ بنی النضیر، بنی قریضہ اور بنی قینقاع نیز خیبر وفدک اور نصارائے نجران کے واقعہ کے بعد اہلِ کتاب کا کوئی مسئلہ مسلمانوں کے لئے مشکل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
یا اس کا رابطہ منافقین کے ساتھ تھا ؟ در آنحالیکہ ہمیں معلوم ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب اسلام کا پورے جزیرے نمائے عرب پر تسلط اور نفوذ ہوگیا تھا تو منافقین کا معاشرے میں کوئی مقام ہی نہیں رہا تھا اور ان کی قوت بالکل ٹوٹ چکی تھی اور ان کے پاس جو کچھ تھا وہ ان کے باطن میں تھا ۔
حقیقتاًاب وہ کونسا اہم مسئلہ تھا جو پیغمبر ص کی زندگی کے آخری دنوں میں باقی رہ گیا تھا کہ مذکورہ بالا آیات جس کے بارے میں اس قسم کی تاکید کررہی ہے ؟
⁦✔️⁩اس حقیقت میں بھی تردید کی گنجائش نہیں ہے کہ پیغمبر ص کا اضطراب اور پریشانی اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے نہیں تھی بلکہ مخالفین کی طرف سے ان احتمالی کارشکنیوں اور مخالفین کے بارے میں تھی جن کا نتیجہ مسلمانوں کے لئے خطرات اور نقصانات کی صورت میں نکلتا ۔
تو کیا پیغمبر کے جانشین کے تعین اور اسلام ومسلمین کی آئندہ سرنوشت کے سوا کوئی مسئلہ ایسا ہوسکتا ہے جس میں یہ صفات پائی جاتی ہوں۔

🌺تفصیلی جواب
🌼سند شان نزول:
🔷اگرچہ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس آیت سے مربوط حقائق کسی قسم کی پردہ پوشی کے بغیر تمام مسلمانوں کے ہاتھوں تک نہیں پہنچائے گئے اور پہلے سے کئے گئے اور مذہبی تعصّبات اس کے اظہار سے مانع ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اہلِ سنت کے علماء کی تحریر کردہ مختلف کتابوں میں خواہ وہ تفسیر کی کتابیں ہوں یاحدیث وتاریخ کی، اُن میں بہت زیادہ روایات ایسی ملتی ہیں جو صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ آیت مذکورہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ان روایات کو بہت سے اصحاب پیغمبر نے نقل کیا ہے ۔ مثلاً:
زید ابن ارقم، ابوسعید خُدری، ابن عباس، جابر ابن عبد الله انصاری، ابوہریرہ، برآء ابن عازب، حذیفہ، عامر بن لیلی بن ضرہ اور ابن مسعود۔ یہ سب کے سب اصحاب پیغمبر اس بات پر متفق ہیں کہ آیت مذکور حضرت علی علیہ السلام اور واقعہ غدیر کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے ۔

⁦◼️⁩جن علماء نے اپنی کتابوں میں ان احادیث کو تصریح کے ساتھ بیان کیا ہے وہ بہت زیادہ ہیں جن میں سے بعض کے نام نمونہ کے طور پر ذکر کررہے ہیں:
۱۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ”مانزل من القرآن فی علی“ میں بحوا لہ خصائص ص/۲۹ یہ روایت درج کی ہے ۔
۲۔ ابوالحسن واحدی نیشاپوری نے ”اسباب النزول“ ص/۱۵۰ میں ۔
۳۔ حافظ ابو سعید سجستانی نے کتاب ”الولایہ“ میں کتاب ”طرائف“ کے حوالے سے ۔
۴ ابن عساکر شافعی نے ”درمنثور“ ج۲/ ص۲۹۰ کے حوالے سے ۔
۵۔ فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ ،ج۳، ص۶۳۶ میں ۔

⁦⬅️⁩ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء اہل سنت نے آیت مذکورہ کی یہی شان نزول بیان کی ہے اس سے یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ مذکورہ علماء ومفسّرین نے آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان نزول کو قبول بھی کرلیا ہے بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اُنھوں نے اس مطلب سے مربوط روایات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔
◾اگرچہ اس معاشرے کے مخصوص حالات کے خوف سے یا پہلے سے کئے ہوئے غلط فیصلے کی بناپر صحیح فیصلہ کرنے میں حائل ہوتی ہے، بعض نے تو یہ کوشش کی ہے کہ جتنا بھی ہوسکے اس کی اہمیت کو گھٹاکر پیش کیا جائے ۔ مثلاً :
◾فخرالدین رازی نے جس کا تعصّب مخصوص مذہبی مسائل میں مشہور ومعروف ہے، اس شان نزول کی اہمیت کم کرنے کے لئے اسے آیت کا دسواں احتمال قرار دیا ہے اور دوسرے نو (۹) احتمال جو انتہائی کمزور اور بہت ہی بے ہودہ اور بے وقعت ہیں انھیں پہلے بیان کیا ہے ۔
⁦◾ رشید رضا نے ”المنار“ میں اس کی شان نزول کو بالکل بیان ہی نہیں کیا ۔
⁦⬅️⁩ہمیں نہیں معلوم کہ آیا ان کا ماحول اس حقیقت کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یا تعصب آمیز فکری حجاب اتنا زیادہ تھے کہ روشن فکری کی بجلی کی چمک اُن پَردوں کو ہٹاکر اس حقیقت کی گہرائی تک نہ پہنچ سکی ۔
⁦✔️⁩ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس آیت کی شان نزول کو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں برملا طور پر تسلیم کیا ہے ۔ لیکن انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ آیت مسئلہ ولایت و خلافت پر ولایت کرتی ہے.
🔷نتیجہ:
💐بہر حال جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ روایات جو اس بارے میں شیعہ کتب ہی میں نہیں بلکہ اہل سنت کی معروف کتابوں میں بھی ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی انھیں آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔
ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات کی شان نزول میں تو ایک دو احادیث پر ہی اِکتفا کر لیا جاتا ہے لیکن اِس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتنی کثیر روایات کو بھی کیوں کافی نہیں سمجھا جاتا؟ کیا یہ آیت ایسی خصوصیت رکھتی ہے جو دوسری آیات نہیں رکھتیں؟ اور کیا اس آیت کے سلسلے میں اس سخت رویّے کے متعلق کوئی منطقی دلیل مل سکتی ہے؟
دوسری بات جس کی یاد دہانی اس مقام پر ضروری ہے یہ ہے کہ جو روایات ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ تو صرف وہ تھیں جو اس آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں (یعنی وہ روایات تھیں جو اس آیت کی شانِ نزول کے متعلق تھیں) ورنہ وہ روایات جو غدیر خم کے مقام پر پیغمبر اکرم (ص) کے خطبہ پڑھنے اور حضرت علی علیہ السلام کا بطور وصی و ولی کے تعارف کرانے کے بارے میں منقول ہیں وہ تو اُن سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ چنانچہ علامہ امینیۺ نے اپنی کتاب ”الغدیر“کو ۱۱۰ اصحاب پیغمبر سے اور ۸۴ تابعین سے اور ۳۶۰ علماء سے اور مشہور کتب اسلامی سے اسناد و مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ حدیث قطعی ترین متواتر احادیث میں سے ہے اور اگر کوئی شخص ایسی حدیث و روایت کے قطعی و یقینی ہونے میں بھی شک و شبہ کرے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ وہ کسی بھی متواتر حدیث کو قبول نہیں کرسکتا ۔ ان تمام روایات کے متعلق بحث کرنا جو آیت کی شانِ نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور اسی طرح اُن تمام روایات کے سلسلہ میں گفتگو کرنا جو حدیث غدیر کے متعلق نقل ہوئی ہیں ایک ضخیم کتاب کا محتاج ہے ۔

🌺بقاء اسلام امامت:
🔷دین اسلام انسانیت کے لیے اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس دین کے محافظ (امام ؑ) کے تعین سے اس نعمت کی تکمیل ہو گئی۔
🌺دین میں آسانی:
🔷بعض احکام متحرک ہیں، حالات کے ساتھ بدلتے ہیں۔ جیسے ضرورت کے وقت مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے۔
⁦🌺⁩اَلۡیَوۡمَ یَئِسَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ دِیۡنِکُمۡ: آج کے دن کافر لوگ تمہارے دین سے مایوس ہو گئے۔
🌺الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ اٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً:
آج کے دن میں نے تمھارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور اسلام کو تمھارے دین کے طور پر قبول کرلیا

🔷الیوم:
الۡیَوۡمَ سے مراد اس کے ظاہری اور لغوی معنی ہیں۔ یعنی ایک خاص دن۔ اس سے مطلق زمانہ مراد لینا خلاف ظاہر ہے۔ اگر چہ اَلۡیَوۡمَ زمانے میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن قرینہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔
❓دین کس روز اپنے کمال کو پہنچا؟
”الیوم“ (یعنی آج کا دن) ،جس کا مندرجہ بالا آیت کے دو جملوں میں ذکر ہے۔ وہ کون سا دن ہے جس میں یہ چار پہلو جمع ہوگئے؟
۱۔ کفار اس روز مایوس ہوگئے
۲۔ دین اس دن مکمل ہوگیا ۔
۳۔ نعمت الٰہی تمام ہوگئی اور
۴۔ خداوند عالم نے دین اسلام کو پورے عالم کے لوگوں کے لیے آخری دین کے طور پر قبول کرلیا ۔

◾مفسرین کا نظریہ:
مفسرین میں اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے لیکن جس بات میں کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ ایسا دن پیغمبر اسلام ص کی زندگی میں بہت اہم ہونا چاہیے اور یہ کہ یہ کوئی عام سا اور معمولی دن نہیں ہوسکتا کیونکہ اتنی اہمیت کسی عام دن کو حاصل نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں آیاہے کہ بعض یہودیوں اور عیسائیوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ ایسی آیت اگر ہماری آسمانی کتب میں ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔

◾ضرورت تحقیق:
ہمیں چاہیے کہ ہم قرائن، نشانیوں، آیت اور سورة کے نزول کی تاریخ ، پیغمبر اسلام کی زندگی کی تاریخ اور مخالف اسلامی منابع کی روایات سے اس اہم دن کو تلاش کریں۔
⁦⬅️⁩ کیا اس سے مراد وہ دن کو تلاش کریں۔
⁦⬅️⁩ کیا اس سے مراد وہ دن ہے جس دن حلال و حرام گوشت کے بارے میں مندرجہ بالا احکام نازل ہوئے تھے۔
⁦✔️⁩قطعاً ایسا نہیں ہے۔ ان احکام کا نزول اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ تکمیل دین کا باعث ہے۔ یہ پیغمبر اسلام پرنازل ہونے والے آخری احکام بھی نہ تھے کیونکہ اس صورت کے آخر میں کچھ اور احکام بھی دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان احکام کا نزول کفار کی ناامیدی کا سبب بھی نہیں ہوسکتا ۔ وہ بات جو کفّار کی مایوسی کا سبب بن سکتی ہے، وہ اسلام کے مستقبل کے لیے کوئی محکم بنیاد اور سہارا ہونا چاہیے۔ ⁦✔️⁩دوسرے لفظوں میں ایسے احکام کا نزول کفّار کے جذبات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا کہ ایک طرح کا گوشت حرام ہو اور دوسری طرح کا حلال۔اس سے ان میں کوئی خاص حسّاسیّت پیدا نہیں ہوسکتی ۔

⁦⬅️⁩ پیغمبر اکرم ص کے حجة الوداع کے عرفہ کا دن ہے؟
(جیسا کہ مفسّرین کے ایک گروہ نے احتمال بھی ظاہر کیاہے)
⁦✔️⁩اس سؤال کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ مذکورہ بالا نشانیاں اس دن پر بھی منطبق نہیں ہوسکتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کوئی واقعہ نمودار نہیں ہوا کہ جو کفار کی مایوسی کا باعث ہوسکے۔ اگر اس سے مراد مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہے تو وہ روز عرفہ سے پہلے بھی مکّہ میں خدمت پیغمبر ص میں تھا اور اگر اس دن مذکورہ بالا احکام کا نزول مراد ہے تو بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، کفّار کے لیے کوئی گھبرانے والی بات نہ تھی ۔

⁦⬅️⁩تو کیا اس سے فتح مکہ کا دن مراد ہے( جیسا کہ بعض کا خیال ہے)،
⁦✔️⁩جب کہ اس سورہ کے نزول کا زمانہ فتح مکّہ سے بہت ہی بعد کا ہے۔

⁦⬅️⁩یا کیا سورة بر اٴت کی آیات کے نزول کا دن ہے؟
⁦✔️⁩ تو وہ بھی اس سُورہ کے نزول سے کافی مُدّت پہلے تھا ۔

⁦⬅️⁩سب سے زیادہ عجیب احتمال یہ ہے جو بعض نے ظاہر کیا ہے کہ اس دن سے مراد ظہور اسلام یا بعثتِ پیغمبر کا دن ہے۔
⁦✔️⁩ ان دونوں کا اس آیہ کے نزول کے دن سے کوئی ربط نہیں ہے اور ان کے در میان ایک طویل مُدّت حائل ہے۔

🌺لہٰذا مذکورہ بالا احتمالات میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آیت سے آہنگ اور مفہوم سے مناسبت رکھتاہو۔

💐یوم غدیر:
⁦🌼⁩اعلان ولایت:
اس آیت کے سلسلے میں ایک اور احتمال بھی ہے جو تمام شیعہ مفسرّین نے اپنی کتب میں پیش کیاہے ، متعدد روایات بھی اس کی تاٴئید کرتی ہیں۔ نیز آیت کے مضامین اور آہنگ بھی اس سے مناسبت رکھتاہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد غدیر خم کا دن ہے، جس روز پیغمبر اسلام ص نے امیر المؤمنین حضرت علی ع کو با قاعدہ اپنی جانشینی کے لیے مقرر کیاتھا ۔
چنانچہ اصحاب رسولؐ میں سے اس کے راوی درج ذیل ہیں:
1۔ زید بن ارقم (طبری: الولایۃ)
2۔ ابوسعید خدری (حافظ ابن مردویہ تفسیر ابن کثیر 2: 14)
3۔ابوہریرہ (تفسیر ابن کثیر 2:14)
4۔ جابر بن عبد اللہ انصاری (نطنزی۔ الخصائص)
🌼کفار کے لیے مایوسی کا دن:
⁦⬅️⁩ یہی وہ روز تھا جب کفار مایوسیوں کے سمندر میں ڈوب گئے۔ کیونکہ انھیں توقع تھی کہ دین اسلام کا قیام بس ایک شخص سے مربوط ہے اور پیغمبر اسلام ص کے بعد صورتِ حال پھر پُرانی ڈگر پر لوٹ آئے گی لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص، پیغمبر کی جانشینی کے لیے منتخب ہوا ہے جو علم تقویٰ اور قدرت و عدالت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام ص کے بعد بے نظیر ہے اور آنحضرت نے لوگوں سے اس کی بیعت لے لی ہے تو وہ اسلام کے بارے میں یاس و ناامیدی کا شکار ہوگئے وہ سمجھ گئے کہ اس دین کی جڑیں مضبوط اور پائیدار ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ۔ کیونکہ جانشینِ پیغمبر کے تعیّن اور مسلمانوں کا مستقبل واضح ہوئے بغیر یہ آخری تکمیل کو نہیں پہنچ سکتاتھا ۔
⁦⬅️⁩حقیقت امر یہ ہے کہ کفار نے دین اسلام کی دعوت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا لیکن انہیں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، ان کی آخری امید یہ تھی یہ دین اس کے بانی کے جانے سے ختم ہوجائے گا اور یہ دعوت اس کے داعی کی موت سے مٹ جائے گی کیونکہ اس کی کوئی اولاد نرینہ بھی نہیں ہے اور بہت سے سلاطین اور شان و شوکت والے بادشاہان کے موت کے منہ میں جانے کے بعد ان کے نام و نشان مٹ گئے اور ان کے قبر میں جاتے ہی ان کی حکومتوں کو زوال آیا اور جب رسول اللہؐ نے بحکم خدا اپنے بعد اس دین کے محافظ کا تعارف کرایا تو اس دین کے لیے بقا کی ضمانت فراہم ہو گئی اور بقول صاحب المیزان ’’یہ دین مرحلہ وجود سے مرحلہ بقا میں داخل ہو گیا۔یہاں سے کافر مایوس ہو گئے کہ یہ رسالت ایک فرد کے ساتھ منحصر نہ رہی، اب یہ دعوت ایک شخص کے مرنے سے نہیں مرتی۔

💐یہ وہ دن تھا جب نعمتِ الٰہی علی(علیه السلام) جیسے لائق رہبر کے تعیّن کے ذریعے لوگوں کے مستقبل کے لیے تمام ہوگئی ۔ اسی دن اسلام اپنے پروگرام کی تکمیل کے ذریعے آخری دین کے طور پرخدا کی طرف سے پسندیدہ قرار پایا ۔
🌺لہٰذا اس میں چاروں مذکورہ پہلو موجود تھے۔
صاحب تفسیر المنار کی عبارت میں اس طرف اشارہ ملتا ہے۔ اکمالِ دین میں دین سے مراد اس کے عقائد، احکام، آداب وغیرہ کی تفصیل اور معاملات کا اجمال اور ان کو اولی الامر سے مربوط گردانا ہے۔ (المنار: ۶ : ۱۶۶)

🌺 وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ:
⁦⬅️⁩اس امت کو نعمت ولایت سے نوازا تونعمتوں کی تکمیل ہو گئی۔ کیونکہ اس کائنات میں سب سے بڑی نعمت توحید اور توحید کی تبلیغ، نبوت سے ہوئی اور اس کو تحفظ امامت سے ملتا ہے۔

🌺 فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِ:
⁦⬅️⁩ اب تم کفار سے نہیں، مجھ سے ڈرو۔ اس لہجے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب بیرونی خطرات ٹل گئے ہیں۔ البتہ اس دین کو داخلی خطرات ہنوز لاحق ہیں۔ ان داخلی خطرات سے بچنے کے لیے خوفِ خدا درکار ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ خوف خدا نہ رکھنے والوں کی طرف سے اس دین کو خطرہ لاحق ہے۔ یعنی اس دین کو اب کفار کی طرف سے کوئی خطرہ باقی نہ رہا، البتہ خود مسلمانوں کی طرف سے خطرہ باقی ہے

🌺علاوہ ازیں ذیل کے قرائن بھی اس تفسیر کی تائید کرتے ہیں۔
⁦✔️⁩ تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی اور تفسیر المنار میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے، کہ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم اکیاسی دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔

⁦✔️⁩اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات اہلسنّت کے مطابق اور حتی کہ بعض شیعہ روایات کی بناء پر (جیسا کہ کلینی نے اپنی مشہور کتاب کافی میں نقل کیاہے) رسول اکرم ص کی وفات بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی تھی ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زیر نظر آیت کے نزول کا دن ٹھیک اٹھارہ ذی الحجہ ہے۔

🔷 بہت سی روایات جو مشہور شیعہ سنی طرق سے منقول ہیں آیہ شریفہ غدیر خم کے روز اور ولایت علی (علیه السلام) کے اعلان کے بعد نازل ہوئی ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔
۱۔ مشہور سنی عالم ابن جریر طبری کتاب ولایت میں معروف صحابی زید بن ارقم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ۔
۲۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ” مانزل من القرآن فی علی (علیه السلام) “ میں مشہور صحابی ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں :۔
پیغمبر خدا ص نے غدیر خم کے دن لوگوں سے حضرت علی(علیه السلام) کا تعارف ان کی ولایت کے حوالے سے کروایا اور لوگ ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :
الیوم اکملت لکم دینکم
اس موقع پر رسول اللہ فر مایا:
اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی وبالولایة لعلی ( ع ) من بعدی، ثم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ، اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ۔
یعنی اللہ اکبر دین کی تکمیل اور نعمت تمام ہونے پر اور پروردگار کے میری رسالت کے بعد آپ نے فرمایا:
جس شخص کا میں مولا ہوں ، اس کا علی(علیه السلام) مولا ہے ، خدا یا : اسے دوست رکھ ، جو علی کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی (علیه السلام) سے دشمنی کرے۔ جو اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ دے تو بھی اسے چھوڑ دے ۔
۳۔ خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ ۻ سے نقل کرتے ہیں وہ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں :
واقعہ غدیر خم ، ولایت ِ علی (علیه السلام) کے عہد و پیمان اور عمر کے ” بخٍ بخٍ یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مسلم “ کہنے کے بعد آیة:
اکملت لکم دینکم نازل ہوئی۔

۴-علامہ سیّد شرف الدین مرحوم کتاب المراجعات میں لکھتے ہیں:
امام صادق(علیه السلام) اور امام باقر سے منقول صحیح روایات میں مذکور ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن نازل ہوئی اہل سنت نے بھی رسول اللہ سے اس سلسلے میں مختلف اسناد سے چھ روایات نقل کی ہیں جو اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے ضمن میں نازل ہوئی ۔

🔷نتیجہ
جو کچھ ہم نے مندرجہ بالاسطور میں کہاہے اس سے واضح ہوجاتاہے کہ زیر منظر آیت کے واقعہ غدیر کے سلسلے میں نازل ہونے کے بارے میں موجود روایات ایسی نہیں ہیں کہ انھیں خبر واحد کہاجاسکے اور ان کی بعض اسناد کو ضعیف قرار دے کر ان سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ اگر یہ روایات متواتر نہ ہوں تو کم از کم مستفیض ہیں اور مشہور اسلامی منابع اور کتب میں منقول ہیں۔

⁦◼️⁩اگرچہ بعض متعصب سنی حضرات چونکہ ان روایات کو اپنے ذوق کے خلاف پاتے ہیں لہٰذا انھیں مجہول اور غلط قرار دیتے ہیں۔ مثلاً آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں صرف ایک سند کو ضعیف قرار دے کر کوشش کی ہے کہ باقی روایات کو بھی نظر انداز کردے یا مثلاً تفسیر المنار کے مؤلف آیت کی ایک عام تفسیر کرکے آگے بڑھ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان روایات کی طرف ذراسا اشارہ بھی نہیں کیا ۔ شاید وہ اس مخمصے میں تھے کہ اگر روایات کا ذکر کرکے انھیں ضعیف قرار دیں تو خلاف انصاف ہوگا اور اگر قبول کرلیں تو خلافِ ذوق ہوگا ۔
آیت مباھلہ :

سورہ العمران آیت61
فَمَنۡ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَکُمۡ وَ اَنۡفُسَنَا وَ اَنۡفُسَکُمۡ ۟ ثُمَّ نَبۡتَہِلۡ فَنَجۡعَلۡ لَّعۡنَتَ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰذِبِیۡنَ﴿۶۱﴾

آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی بیٹیوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی بیٹیوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

 🔷 مباھلہ کیا ہے ؟ 
دو اشخاص یا گروہ کا کسی اہم مذہبی مسٸلہ میں اختلاف راۓ پر، ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو مباھلہ کہتے ہیں. وہ بھی اسٕ طرح کہ وہ ایک جگہ جمع ہوں اور بارگاہ الہی میں تضرع کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور سزا و عذاب دے۔ 

◾اسلامی روایات میں ہے کہ جب نصاری کو مباھلہ کی دعوت دی گٸی تو نجران کے عیساٸیوں کے نماٸندے پیغمبر اکرم ص کے پاس آٸے اور آپ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کرلیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرلیں ۔ مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیساٸیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمد شور غل ، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھہ مباھلہ کے لیے آٸیں تو ڈرا نہ جاٸے اور مباھلہ کرلیا جاٸے کیونکہ اگر اس طرح آٸیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور غل کا سہارا لیا جاٸے گا اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھہ آٸیں ، بہت قریبی خواص اور اپنے چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جان لینا چاھیے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صورت میں اُن سے مباھلہ کرنے سے پرھیز کرنا چاھیے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطرناک ہے ۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق عیساٸی میدان مباھلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر ص اپنے بیٹے حسین کو گود میں لیے حسن کا ہاتھہ پکڑے اور علی و فاطمہ کو لیے آ پہنچے ہیں اور انہیں فرما رہے ہیں کہ جب میں دعا کروں ، تم آمین کہنا ۔ 
عیساٸیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہاٸی پریشان ہوٸے اور مباھلہ سے رک گٸے اور صلح و مصالحت کے لیے تیار ہوگٸے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہوگٸے۔
🔅حدیث مباہلہ پچاس سے زائد صحابیوں سے مروی ہے۔ 
🔅 اس آیت میں پیغمبر ص کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر اس علم و دانش کے بعد جو تمہارے پاس پہنچا ہے کچھ لوگ تم سے جھگڑیں تو انہیں مباھلہ کی دعوت دو اور ان سے کہو کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاٶ ۔ ہم اپنی عورتوں کو دعوت دیتے ہیں تم بھی اپنی عورتوں کو لاٶ اور ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں تم بھی اپنے نفسوں کو دعوت دو پھر ہم مباھلہ کریں گے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں گے ۔ 
🔅مباھلہ سے مراد یہ نہیں کہ طرفین جمع ہوں ، ایک دوسرے پر لعنت اور نفرین کریں اور بس منتشر ہوجاٸیں۔ کیونکہ یہ عمل تو نتیجہ خیز نہیں ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ دعا اور نفرین عملی طور پر اپنا اثر ظاھر کرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذاب میں مبتلا ہوجاٸے ۔
🔅علامہ زمحشری نے اس جگہ ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ  وَ نِسَآءَنَا  اور  اَنۡفُسَنَا   میں ایک ایک ہستی حضرت فاطمہ (س) اور حضرت علی علیہ السلام پر اکتفا کیا گیا، لیکن  اَبۡنَآءَنَا  میں ایک ہستی پر اکتفا نہیں کیاگیا۔ چونکہ فاطمہ (س) اور علی علیہ السلام کی کوئی نظیر نہیں تھی، لہٰذا ان کے ساتھ کسی اور کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی، لیکن  اَبۡنَآءَنَا   میں دو ہستیاں ایک دوسرے کی نظیر تھیں، اس لیے یہاں دونوں کو بلایا۔ 
🔅سیرت نگاروں اور مورخین میں کسی کو اس بات سے اختلاف نہیں کہ جناب رسول ص نے حسنین فاطمہ اور علی علیہم السلام کے ہاتھہ پکڑ کر نصاری کو مباھلہ کی دعوت دی۔ 
(چوتھی صدی کے مقتدر عالم جناب ابوبکر جصاص کی کتاب احکام القرآن ص 15)

🔅بعض مفسرین کے مطابق انفسنا سے مراد رسول خدا ص ہیں۔ لیکن  پھر حضرت علی علیہ السلام کی موجودگی کو آیت کے مطابق کیسے توجیہہ کریں گے۔

🔅 ایک اعتراض:
تفسیر المنار میں علامہ عبدہ لکھتے ہیں: مباہلہ میں حضور (ص) نے صرف علی، فاطمہ اور حسنین علیہم السلام کو ساتھ لیا۔ یہ متفقہ روایت ہے، لیکن یہ شیعوں کی روایت ہے اور انہوں نے اپنے خاص مقصد کے لیے اسے ہوا دی ہے۔ حتیٰ کہ بہت سے اہل سنت میں بھی یہ بات رائج ہو گئی اور اس حدیث کو گھڑنے والوں نے آیت کی تطبیق کا خیال بھی نہیں رکھا، کیونکہ عربی محاورہ میں نساء کہہ کر اپنی بیٹی مراد نہیں لی جاتی۔(المنار 3: 322)

جواب : 
1۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اربابِ صحاح مثلاً صحیح مسلم اور صحیح ترمذی، محدثین ، مؤرخین اور مفسرین کے پاس کوئی معیار نہیں ہے کہ وہ ایک من گھڑت روایت پر متفق ہو جاتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بعد کسی صحیح محدث، کسی راوی اور کسی جرح و تعدیل کرنے والے پر وثوق نہیں رہتا ۔ 2۔ کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ نساء کے معنی بیٹی ہیں اور روایات کا مفہوم بھی یہ نہیں ہے بلکہ روایات اس بات کو بالاتفاق بیان کرتی ہیں کہ حضور(ص) نے عملاً مباہلہ کے لیے نِسَآءَنَا  کی جگہ صرف حضرت فاطمہ (س) کو اور  اَنۡفُسَنَا  کی جگہ صرف حضرت علی علیہ السلام کو ساتھ لیا۔ لہٰذا یہ حضرات ان الفاظ کے مصداق قرار پائے، نہ کہ مفہوم۔ ورنہ مفہوم و معنی میں گنجائش کے باوجود ان کے علاوہ کسی کو مباہلہ میں شریک نہیں کیا۔۔ 

ممکنہ سوالات اور ان کے جوابات

آسان قرآن کوئز۔۔۔ 2020
((بعنوان: غدیر و مباہلہ از قرآن))

🔸 ضروری نوٹ دیئے گئے نکات کی مدد سے ہر سوال کے چار جوابات میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا۔

🔹کچھ سوالات کے جوابات کے لئے قرآن مجید کے ترجمے سے مدد لینی ہو گی۔

1.آیت بلغ میں خداوندعالم کن سے مخاطب ہیں؟
A.فرشتوں سے
B.انبیاء سے
C.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
D.امام علی علیہ السلام سے

2.و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ کا ان میں سے کونسا ترجمہ ہے؟
A.اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے کوئی کار رسالت سرانجام نہیں دیا۔
B.اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا
C.آپ کا آخری کام ولایت کا اعلان ہے
D.ان میں سے کوئی ترجمہ درست نہیں

3.”یا ايها الرسل” قرآن میں کتنی بار  ذکر ہوا ہے؟
A.ایک
B.دو
C.تین
D.چار

4.آیت بلغ امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ان میں سے کون سے صحابہ نے اس کو نقل کیا ہے؟
A.ابن عباس
B.حذیفہ
C.ابو ہریرہ
D.تمام نے نقل کیا ہے

5.ان میں سے کس اہل سنت کے علماء نے آیات کے شان نزول کو بیان نہیں کیا؟
A.فخر الدین رازی
B.جلال الدین سیوطی
C.رشید رضا
D.قاضی شوکانی

6.کتاب الغدیر میں کتنے تابعین کی اسناد اور مدراک سے نقل کیا گیا ہے؟

  1. 110  
  2. 84 
  3. 360 
  4. 48

7. مباہلہ کتنے صحابیوں سے مروی ہے ؟
A. پچاس سے زاٸد صحابیوں سے مروی ہے ۔
B.چالیس سے زاٸد صحابیوں سے مروی ہے ۔
C.سو سے زاٸد صحابیوں سے مروی ہے
D. دو سو صحابیوں سے مروی ہے ۔

8۔پیغمبر ص کے پاس مباہلہ کرنے کون آئے ؟
A.عیساٸیوں کا نماٸندہ ۔ 
B.مدینہ کا آدمی ۔
C. یہودیوں کا نماٸندہ ۔
D.درست ہے B اور A

9.سیرت نگاروں اور مورخین کو کس بات میں اختلاف نہیں ہے ؟
A. رسول ص نے حسنین فاطمہ و علی کے ہاتھہ پکڑ کر نصاری کو مباھلہ کی دعوت دی ۔⁩
B.رسول ص نے حسنین فاطمہ و علی کے ہاتھہ پکڑ کر نصاری کے لوگوں کو مباھلہ کی دعوت دی ۔
C.رسول ص نے حسنین فاطمہ و علی کے ہاتھہ پکڑ کر مدینہ والوں کو مباھلہ کی دعوت دی ۔
D.رسول ص نے حسنین فاطمہ و علی کے ہاتھہ پکڑ کر مباھلہ کی دعوت دی ۔

10.علامہ زمحشری نے ان میں سے کن کلمات قرآنی پر اکتفا کیا ہے کہ وہ ایک ہستی بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور امام علی علیہ السلام کی ہے؟
A.ونساءنا
B.انفسانا
C.ابناءنا
D.درست ہے B اور A

11. آج کے دن——— لوک  تمھارے دین سے مایوس ہوگئے ؟
A. منافق
B. مشرک
C.کافر⁩
D. بت پرست

12. آیت الیوم اکملت لکم۔۔۔۔۔ ۔سن کر بعض یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا کہا ؟
A . ۔  اگر ہمارا دین پسندیدہ ہوتا تو ہم تا قیامت خوشی مناتے
B. ایسی آیت اگر ہماری آسمانی کتب میں ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے 
C. اگر ہمارے لئے نعمتیں تمام ہوتیں تو ہم ساری زندگی شکر ادا کرتے
D. .اگر ہمارا دین مکمل ہوتا تو ہم اس دن کو ایک قرار دیتے

13.الیوم سے مراد فتح مکہ کا دن نہیں ہے ان میں سےکون سی دلیل درست ہے ؟
A.  یہ سورہ فتح مکہ کےبہت بعد میں نازل ہوا ہے
B.   الیوم والی آیت سورہ فتح میں نہیں ہے
C. فتح مکہ کے بعد کافر دین سے مایوس نہیں ہوئے تھے
D. کیونکہ مکہ مشرکین کے خلاف فتح ہوا تھا

14.اعلان ولایت سے کافر کیوں مایوس ہوگئے ؟
A. کفار کو یقین تھا رسول کی رحلت کے بعد اسلام ختم ہو جائے گا
B. رسول کا کوئی بیٹا نہیں ہے تو دین کا کوئی وارث نہیں رہے گا
C. اعلان ولایت سے کفار کو یقین ہو گیا دین کا محافظ دین بچائے گا
D. تمام جوابات درست ہے

15.دین مرحلہ وجود سے مرحلہ بقا میں داخل ہوگیا کس مفسر قرآن نے یہ جملہ لکھا ہے  ؟
A.  صاحب المنار  
B. صاحب المیزان ⁦
C. فخر رازی
D. ابن کثیر

16.فلا تخشو ہم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آیت کس طرف اشارہ کر رہی ہے  ؟
A.   اب اسلام کو بیرونی خطرہ نہیں ہے
B.   اسلام کو اندرونی خطرات کا سامنا ہوگا
C. اسلام کو خوف خدا نہ رکھنے والوں سے خطرہ ہے
D.   تمام جوابات درست ہے⁩

17. کتاب ولایت میں کس معروف صحابی کی روایت بیان کی گئی ہے کہ “یہ آیت غدیر خم کے دن حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی “؟
A.   سعید خدری
B. بلال حبشی
C. زید بن ارقم⁩
D. ابوہریرہ 

18.خدایا !اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے ۔۔،۔۔۔۔ رسول اللہ نے یہ دعا کی اس موقع پر مانگی ؟
A.  الیوم اکملت آیت کے نزول کے موقع پر 
B. اعلان ولایت کرنے سے پہلے
C. میدان عرفات میں
Dخطبۃ الوداع کے دوران

19.یہ آیت غدیر خم میں نازل ہوئی کتاب المراجعات میں کن دو معصومین سے روایت نقل کی گئی ہے ؟
A. امام صادق و امام سجاد
B. امام باقر اور امام کاظم 
C.  امام صادق اور امام باقر 
D. امام حسن اور امام حسین

20. یہ آیت غدیر خم میں نازل ہوئی ہے اہل سنت کے ہاں کتنی روایت نقل کی گئی ہے؟
3 A. 
6 B. 
5 C. 
8 D.

التماس دعا 🤲🏻

منجانب
🔹 مکتب امام زمانہ عج

Leave a Reply